سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

اسلامی نظام کی مصلحت کا خاطر خبرنگار کا جھوٹ بولنا

امام خمینی رحمة الله علیہ فرماتے تھے: ”کبھی کبھی نظام کی حفاظت کے لئے بعض واجبات کو بھی ترک کیا جاسکتا ہے“ کیا یہ موضوع خبر کے سلسلے میں بھی صادق ہے؟ کیا خبر نگار بھی نظام کی حفاظت میں جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے؟

اگر واقعاً کوئی مسئلہ اہم اور مہم کی صورت اختیار کرلے اور جھوٹ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے مانند ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ یہ حکم سوء استفادہ کا ذریعہ بن جائے اور خبرنگار کسی نہ کسی بہانے سے جھوٹی خبروں کو منتشر کریں، لہٰذا حتی الامکان اس کام سے پرہیز کیا جائے ۔

دسته‌ها: خبرنگار (صحافی)

خبرنگار کا ظالم حکومت کی خبروں کو فاش کرنا

اگر کوئی حکومت، ظالم ہو تو ایک خبر نگار کس حد تک اس کے رازوں کو فاش کرسکتا ہے؛ اگرچہ وہ اسی حکومت کا شہری ہو؟

اگر اُن خبروں کا نشر کرنا امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور فحشا وفساد سے مقابلہ کا سبب ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

دسته‌ها: خبرنگار (صحافی)

خبر نگار کو خبر کے اندراج کے لئے رشوت دینا

بیرونی خبرنگاروں اور مصنفوں کو اسلامی نظام حکومت کے نفع میں بیرونی میڈیا میں کوئی مطلب درج کرانے کے لئے رشوت دینے کا کیا حکم ہے؟

اس کا م کو رشوت کا نام نہیں دے سکتے ہیں؛ بلکہ یہ وہ حقّ الزحمہ ہے کہ جو مثبت، مفید اور مشروع کام کے عوض دیا جارہا ہے اور لینے والے اور دینے والے پر کوئی اشکال نہیں ہے ۔

دسته‌ها: خبرنگار (صحافی)

خبروں کا سینسر کرنا

کیا اسلام میں خبر کو سینسر کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو اس کی کیا حدود ہیں؟

ہر طرح کی وہ خبر جو اسلامی معاشرے کے لئے مضر ہو، یا دشمنوں کی بیداری اس سے ان کے لئے سوٴ استفادہ کا سبب ہو، یا مسلمانوں کی صف میں تفرقہ پھیلانے کا باعث ہو، یا مسلمانوں میں وحشت وناامنی ایجاد کرے یا اس کے اور دوسرے نقصانات ہوں، تو ایسی خبروں کو نشر نہیں کرنا چاہیے، ایسے ہی جنگ کے زمانے میں بہت سی خبریں چھپائی جاتی ہیں، اور خطرہ ٹلنے کے بعد نشر کی جاتی ہیں، اسی مطلب کے مانند دیگر موارد میں بھی کاملاً ممکن ہے ۔

دسته‌ها: خبر

خبر کے میدان میں تساہل، تسامح اور مدارا سے کام سے لینا

خبر کے میدان میں، تساہل، تسامح، مدارا وغیرہ کہ کیا معنی ہیں؟

تسامح اور مدارا کے مختلف معنی ہیں، اگر اس سے مراد اسلام کے دشمنوں کے ساتھ میل جول کرنا اور دشمن کو دوست کے لئے نقصان ہنچانے کا موقع فراہم کرنا ہے تو ایسی چیز جائز نہیں ہے؛ لیکن اگر صحیح وسالم گروہ یا دیگر مذاہب کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی گذارنا ہو، اس طرح کہ مسلمانوں اور آئین اسلام کو ضرر پہنچانے کا سبب نہ بنے تو جائز ہے ۔

دسته‌ها: خبر

خبر اور گذارش پر تبصرہ کرنے کی حدود

خبروں اور رپورٹوں پر تبصرہ کرنا حوزہٴ علمیہ کی علم تفسیر کے مانند ہے، کیا خبروں اور رپورٹوں کی تبصرے کے لئے کچھ حدودمعیّن کیا جاسکتے ہیں؟ وہ حدود کیا ہیں؟

خبروں پر تبصرے کے لئے معمولاً قرائن وشواہد اور موجودہ حالات اور اسی طرح کے مسائل سے استفادہ کرنا چاہیے، اگر قطعی نتیجے تک پہونچیں تو بطور قطع اس کی قضاوت کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ عنوان احتمالی کے اوپر تکیہ کرنا چاہیے، تاکہ خلاف واقع کوئی بات نہ کہی جائے ۔

دسته‌ها: خبر

خبر کے سلسلے میں نظام حکومت اور اسلام کے درمیان تعارض

کچھ مواقع ایسے آتے ہیں جن میں ایک خبر ظاہراً اسلام کے خلاف ہو لیکن حقیقت میں وہ اسلامی نظام کے نفع میں ہوتی ہے (اقتصادی وغیرہ خبریں) خبرنگار کو کس خبر کو ترجیح دینا چاہیے؟

اس پر توجہ رکھتے ہوئے کہ نظام، اسلام کی بنیاد پر استوار ہے لہٰذا ایسا تضاد متصوّر نہیں ہے، مگر ان لوگوں کے لئے جن کی یا تو مسائل اسلامی کی طرف توجہ نہیں ہے یا وہ مصالح نظام سے بے خبر ہیں ۔

دسته‌ها: خبر

مصلحت آمیز جھوٹ یا فتنہ انگیز سچ

مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہے یا فتنہ انگیز سچ؟

وہ سچ کہ جو فتنہ پھیلائے یا کوئی مفسدہ ایجاد کرے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے؛ چاہے اس کا جھوٹ مصلحت آمیز ہویا بیہودہ اور چونکہ یہ بات اہم اور مہم قاعدہ کے تحت آتی ہے تو جھوٹ کے نقصانات اور فوائد کا آپس میں مقایسہ کرنا چاہیے، قابل ذکر ہے کہ اگر جھوٹ کی جگہ توریہ سے کام لے سکتے ہیں تو توریہ مقدم ہے، توریہ سے مراد وہ بات ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں؛ سننے والا اُس معنی کو سمجھے جو خلاف واقع ہے اور اس پر یقین بھی کرلے اور مصلحت حاصل ہوجائے، لیکن کہنے والا دوسرے معنی کا تصور کرے کہ جو واقع کے مطابق ہے ۔

دسته‌ها: خبر

غیر مسلم اشخاص سے مربوط خبروں کا نشر کرنا

ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ہیں نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انقلاب کو قبول کرتے ہیں، ان کے مسائل، خبریں اور نظریات کو نشر کرنے میں ہمارا کیا وظیفہ ہے؟

جو چیز نظام کی تضعیف یا عام لوگوں کے ذہن کی تشویش کا سبب ہو اس سے پرہیز کیا جائے، اور جو چیز مفید یالا اقل فاقد ضرر ہو، اس کو منتشر کرسکتے ہیں ۔

دسته‌ها: خبر
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت