سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف

عقد کرنے والوں کا اپنی زبان میں صیغہ جاری کرنا

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ عقد جیسے خرید وفروخت ، اجارہ ( کرایہ) اور نکاح وغیر ہ کے احکام میں ، طرفین عقد ،( یا دونوں کے وکیل ) ایجاب و قبول کے مقصد سے لازمی طور پر صیغہ عقد پڑھیں ، ( خصوصاً نکاح کا عقد ) اور صیغہ سے مراد ، کچھ کلمات اور جملہ ہوتے ہین وہ کسی بھی زبان میں ہوں ، البتہ حقیقت میں ان کلمات اور جملون کے معنی مقصود ہوتے ہیں لہذا اس بنا پر ، عقل و منطق شاہد ہے کہ صیغہ عقد اس زبان میں ہونا چاہئے جس سے ، طرفین کے گواہ اور حاضرین آشنا ہوں ( چونکہ مقصود کلمات اورجملہ نہیں بلکہ معنی ہیں اور معنی تب ہی سمجھ میں آئیں گے جب زبان سے آشناہوں ) سوال یہ ہے کہ غیر عرب شخص کے لئے کیا یہ ضروری ہے کہ صیغہ عربی زبان میں ہوں جبکہ ہر شخص اپنی مادری اور رائج زبان میں بہتر طریقہ سے مطلب کو بیان کرسکتا اور سمجھا سکتا ہے ۔

صیغہ عقد کو ہر اس زبان میں جاری کرنا جائز ہے جسے دونوں( طرفین عقد )لوگ سمجھتے ہوں ، فقط نکاح اور طلاق میںاحتیاط یہ کہ کہ عربی زبان میں صیغہ جاری کیا جائے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ اس کے معنی ، جانتے ہوں ، لہذا اس بناء پر صیغہ جاری کرنے والا اگر عربی زبان سے آشنا نہ ہو ( یعنی اس کے معنی نہ جانتا ہو ) اس کو بھی اپنی زبان میں جاری کرسکتا ہے ۔

کلیدواژه ها:
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت